احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ

احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ
کتاب کی تفصیلات
احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ
زبان:
  • سلسلہ نمبر: 64
    ایڈیشن: اول
    تعداد صفحات: 256
    صفحات (از تا): 6543-6798
    کمپوزنگ و ڈیزائننگ: ظفر ملک
    تاریخ اشاعت:
    9 April 1999
    22 ذی الحجہ 1419ھ
    22 ذی الحجہ 1419ھ
    Typical Age Range: 11-
    کتاب فحش مواد سے پاک ہے۔
    سال کاپی رائیٹ: 1999
    کتاب باآسانی دستیاب ہے۔
    میٹیریل:
  • کاغذ
  • گتہ
  • احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ جناب مولانا حافظ عبدالوحید الحنفیؔ صاحب کی ترتیب و تدوین اور مکتبہ حنفیہ کی شائع کردہ ایک اسلامی و اصلاحی کتاب ہے، جس کا سلسلہ نمبر 64 ہے۔ اس کتاب میں اسلام، تعلیم القرآن، دینیات وغیرہ کے موضوعات اور آسان ترجمۂ قرآن پارہ اوّل سورہ البقرہ، قرآن آپ سے کیا کہتا ہے؟ وغیرہ کے عنوانات پر مشتمل بحوالہ مضامین شامل کیے گئے ہیں۔

    ’احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ‘ کی اشاعتِ اول مورخہ 22 ذی الحجہ 1419ھ مطابق 9 اپریل 1999ء کو چکوال سے ہوئی۔

    ظفر ملک کی کمپوزنگ و ڈیزائننگ، اپنی بہترین بائینڈنگ کے ساتھ، 256 صفحات پر مبنی کتاب ’احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ‘ کے خوبصورت ٹائٹل کی چند تصاویر درج ذیل ہیں:

    فرنٹ کوّر image for احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ
    اندرونی ٹائٹل image for احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ
    بیک کوّر image for احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ

    ’احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ‘ کو اپنے قریبی کتب فروش سے خرید فرما کر یا پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ کر کے یا آن لائن خود بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کو بھی اس کتاب کے پڑھنے کی ترغیب دیجیے۔ شکریہ

    فہرست عنوانات

    Fehrist 'unwanaat (Table of Content)

    سلسلہ نمبر 64
    نمبر شمار عنوان صفحہ نمبر
    1 احکامِ قرآن 9
    2 سورۃ الفاتحہ 10
    3 اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ 11
    4 حل لغات: اَعُوْذُ 12
    5 بِاللہ۔ اللہ سے 13
    6 شیطان 20
    7 اللہ کی یاد میں غفلت، دخلِ شیطان 20
    8 استعاذہ کے تین کلمات 22
    9 استعاذہ کے الفاظ 23
    10 فضائلِ بسم اللہ شریف 25
    11 صفات اللہ تعالیٰ 28
    12 اسماءِ سورۃ فاتحہ 30
    13 حمد قولی 31
    14 حمد فعلی 31
    15 حمد کی قسمیں 31
    16 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن 31
    17 حمد حالی 32
    18 شاہراہ سلوک 33
    19 ۱۔ پہلا عقبہ 33
    20 الحمد لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن 40
    21 ’’صراط مستقیم‘‘ کے مصداق کون ہیں؟ 45
    22 فرقہ مشبہ کے عقائد 48
    23 تہتر فرقوں میں سے ایک جنتی باقی دوزخی ہیں: 49
    24 اہل السنت و الجماعت کا عقیدہ 49
    25 فرقہ مَعَطِّلَہ کے عقائد 49
    26 ایک سیدھی لکیر کھینچی 50
    27 جن لوگوں پر انعام کیا گیا 52
    28 انعام یافتہ لوگ 53
    29 آیت مَعَیّت 54
    30 جماعتِ صحابہؓ کی فضیلت 56
    31 صحابہ کرامؓ سب الصادقین ہیں۔ اور الصّٰدقین کو بشارت 59
    32 مخلوق میں سب سے اچھے لوگ 60
    33 خلاصہ تفسیر آیت ۱۰۰سورہ التوبہ 62
    34 راستہ عبد سے رب کی طرف 64
    35 راستہ رَب سے عَبْد تک 65
    36 گمراہ فرقے 68
    37 ہلاک ہونے والے فرقوں کا بیان 68
    38 (۱) روافض 69
    39 مذکورہ مذاہب باطلہ کے بنیادی عقائد فاسدہ 69
    40 رافضی کی وجہ تسمیہ 70
    41 فرقہ ناجیہ (نجات پانے والا جنتی فرقہ) 73
    42 سالک۔ واقف۔ راجع 75
    43 مسائل السلوک سورہ فاتحہ 75
    44 فضائل سورۂ بقرہ 77
    45 سورہ فاتحہ سے سورۃ البقرہ کا ربط 77
    46 آیت ۱۔ حروف مقطعات 80
    47 الٓمٓ (۱) 81
    48 آیت ۶۔ کتابِ ہدایت 82
    49 (۲) شریعت میں ایمان تین چیزوں کا نام ہے۔ 85
    50 ایمان و اسلام اور احسان کیا ہے؟ اور قیامت کب آئے گی؟ 86
    51 اسلام کیا ہے؟ 86
    52 صحابہؓ کو جبرئیلؑ کی زیارت 89
    53 تقدیر کے منکروں سے بیزاری 89
    54 احسان کیا ہے؟ 90
    55 شرائع اسلام کیا ہیں؟ 90
    56 یہ جبرئیل علیہ السلام تھے 91
    57 آیت ۷۔ کفر کا نتیجہ 92
    58 آیت ۶۔ کافروں کی گمراہی اور بدحالی 92
    59 آیت ۹۔ نفاق کے اسباب 93
    60 آیت ۸۔ منافقوں کا دعویٰ ایمانی۔ منافقوں کا دھوکہ 93
    61 آیت ۱۰۔ منافقوں کا روگ 96
    62 آیت ۱۳۔ صحابہؓ کی طرح ایمان لانے کا حکم اور منافقوں کی بے عقلی 97
    63 آیت ۱۲۔ منافق فساد کرنے والے ہیں 97
    64 آیت ۱۱۔ منافقوں کی مفسدانہ چالیں 97
    65 آیت ۱۴۔ منافقوں کا ہنسی اڑانا 98
    66 اللہ کا جواب کہ جو صحابہؓ کو بے وقوف کہے وہ خود بے وقوف ہے 98
    67 آیت ۱۶۔ گمراہی اور خسارا 99
    68 آیت ۱۵۔ منافقوں کی ہنسی کا جواب 99
    69 آیت ۱۹۔ منافقوں کی دوسری مثال 100
    70 آیت ۱۸۔ منافقوں کا انجام 100
    71 آیت ۱۷۔ منافقوں کی پہلی مثال 100
    72 آیت ۲۰۔ منافقوں کا تذبذب 101
    73 آیت ۲۲۔ شرک کی ممانعت 102
    74 آیت ۲۱۔ عبادت کا مطالبہ 102
    75 آیت ۲۳۔ کلام اللہ کی سچائی کا دعویٰ 103
    76 آیت ۲۴۔ مخالفین کی بے بسی 104
    77 آیت ۲۶۔ قرآن مجید کی مثالیں 105
    78 آیت ۲۸۔ اللہ کا انکار کیسے؟ 107
    79 آیت ۲۷۔ گمراہ کون ہوتے ہیں؟ 107
    80 آیت ۲۹۔ اللہ کی نشانیاں 108
    81 (۱) مسئلہ: ہر مفید شے اصل میں مباح ہے 109
    82 آیت ۳۰۔ حضرت آدمؑ کی خلافت کا اعلان 113
    83 آیت ۳۲۔ فرشتوں کا عجز اور اقرار 114
    84 آیت ۳۱۔ علم کی برتری 114
    85 آیت ۳۳۔ حضرت آدمؑ کا علم و فضل ظاہر ہونا 115
    86 آیت ۳۵۔ حضرت آدم جنت میں 116
    87 آیت ۳۴۔ فرشتوں کا سجدہ۔ ابلیس کا انکار 116
    88 آیت ۳۶۔ جنت سے نکلنا 117
    89 آیت ۳۹۔ منکرین وحی کا انجام 118
    90 آیت ۳۸۔ وحی کی ضرورت 118
    91 آیت۴۰۔ بنی اسرائیل پر انعامات 119
    92 آیت ۴۱۔ دعوتِ قرآن 119
    93 آیت ۴۲۔ حق چھپانے کی ممانعت 120
    94 آیت ۴۳۔ نماز، زکوٰۃ اور اتحاد کا حکم 120
    95 (۲) مسئلہ نماز اور زکوٰۃ اور نماز میں رکوع کا فرض ہونا وجوب جماعت 121
    96 آیت ۴۴۔ نصیحت پر خود عمل کیوں نہیں کرتے 126
    97 آیت ۴۵۔ صبر اور نماز سے مدد 127
    98 آیت ۴۷۔ بنی اسرائیل کی فضیلت 128
    99 آیت ۴۸۔ قیامت کے دن کیا کام آئے گا 128
    100 آیت ۵۰۔ فرعون کی غرقابی 129
    101 آیت ۴۹۔ بنی اسرائیل پر مصائب 129
    102 آیت ۵۱۔ بچھڑے کی پوجا 130
    103 آیت ۵۲۔ معافی کا اعلان 130
    104 آیت ۵۴۔ شرک کی سزا 131
    105 آیت ۵۳۔ کتاب اور فرقان 131
    106 آیت ۵۵۔ بنی اسرائیل کی ایک اور گستاخی 132
    107 آیت ۵۷۔ من اور سلوٰی 133
    108 آیت ۵۶۔ موت کے بعد زندگی 133
    109 آیت ۵۹۔ کلامِ الٰہی کی تحریف پر سزاء 134
    110 آیت ۵۸۔ بنی اسرائیل کی شہری زندگی 134
    111 آیت ۶۰۔ بارہ چشمے 135
    112 آیت ۶۱۔ بنی اسرائیل کی بے صبری 136
    113 آیت ۶۲۔ ایمان اور عمل صالح کا اجر 137
    114 آیت ۶۳۔ کوہ طور کا بلند ہونا 138
    115 آیت ۶۵۔ صورتیں مسخ ہو جانا 139
    116 آیت ۶۴۔ قانون سے منہ موڑنے کی سزا 139
    117 آیت ۶۶۔ سرمایۂ عبرت 140
    118 آیت ۶۷۔ ذبح گاؤ کا حکم 140
    119 آیت ۶۹۔ (ب) گائے کا رنگ کیسا ہو؟ 141
    120 آیت ۶۸ ۔ (الف) گائے کیسی ہو؟ 141
    121 اللہ کے حکم میں حجّت بازی 141
    122 آیت ۷۱۔ گائے کا ذبح کرنا 142
    123 آیت ۷۰۔ (ج) گائے کیسی ہو؟ 142
    124 آیت ۷۲۔ مردے کا زندہ ہونا 143
    125 آیت ۷۴۔ یہود کی سنگ دلی 144
    126 آیت ۷۳۔ اسی طرح اللہ مُردوں کو زندہ کرے گا 144
    127 آیت ۷۵۔ کلام اللہ میں تحریف 145
    128 آیت ۷۶۔ یہود کی منافقت 146
    129 آیت ۷۹۔ خرابی ہے اُن لوگوں کے لیے 147
    130 آیت ۷۸۔ جھوٹی آرزوئیں 147
    131 آیت ۷۷۔ اللہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے 147
    132 آیت ۸۰۔ جنت کے ٹھیکیدار 148
    133 آیت ۸۳۔ میثاق بنی اسرائیل 149
    134 آیت ۸۲۔ ایمان اور عمل صالح 149
    135 آیت ۸۱۔ جنت اور دوزخ 149
    136 آیت ۸۴۔ خون ریزی اور جلا وطنی 150
    137 آیت ۸۵۔ عہد شکنی اور نافرمانی 151
    138 آیت ۸۶۔ آخرت کے بدلے دُنیا 152
    139 آیت ۸۷۔ عیسیٰؑ ابنِ مریمؑ کی آمد 153
    140 آیت ۸۹۔ جان بوجھ کر کفر 154
    141 آیت ۸۸۔ بنی اسرائیل کا تعصّب 154
    142 آیت ۹۰۔ ضد اور تعصب کا نتیجہ 155
    143 آیت ۹۱۔ دعوتِ ایمان کا انکار 156
    144 آیت ۹۳۔ پکڑو جو ہم نے تمہیں دیا ہے 157
    145 آیت ۹۲۔ گوسالہ پرستی 157
    146 آیت ۹۴۔ موت کی تمنا 158
    147 آیت ۹۶۔ لمبی عمر کی حرص 159
    148 آیت ۹۵۔ موت کی تمنا نہیں کریں گے 159
    149 آیت ۹۸۔ جو اللہ کا دشمن ہو 160
    150 آیت ۹۷۔ حضرت جبرائیلؑ کی دشمنی 160
    151 آیت ۱۰۱۔ جادو کے عمل 161
    152 آیت ۱۰۰۔ یہودیوں کی عہد شکنی 161
    153 آیت ۱۰۲۔ ھاروت ماروت 162
    154 آیت ۱۰۳۔ ایمان اور تقویٰ 164
    155 آیت ۱۰۴۔ الفاظ غلط کا استعمال 165
    156 امت محمدیہﷺ کا ایک منفرد اعزاز 166
    157 آیت ۱۰۵۔ کفار کا تعصب 168
    158 آیت ۱۰۶۔ آیات کی تنسیخ کی حکمت 170
    159 شانِ نزول 171
    160 آیت ۱۰۶۔ قرآن میں نزول وحی میں نسخ کی حکمت 171
    161 آیات میں نزول وحی کے دوران نسخ و تبدیلِ احکام 173
    162 مسئلہ (۳) نزولِ وحی کے دوران تبدیلی آیات کی حکمت 173
    163 نسخ فی الواقع کوئی تبدیلی نہیں بلکہ بیان محض ہے 175
    164 ناسخ مثل کی مثال 176
    165 نسخ بلا بدل کی مثال 176
    166 ناسخ خیر کی مثال 176
    167 (۱) مسئلہ پاؤں کا مسح 177
    168 ناسخ اثقل کی مثال 177
    169 اِنساء کے معنیٰ 181
    170 (۲) منسوخ التلاوت 182
    171 (۱) منسوخ (مُنْسِی) بُھلائی ہوئی 182
    172 اہلِ اصول کی تحقیق 182
    173 ایک سوال اور اس کا جواب 183
    174 (۲) منسوخ التلاوت دون الحکم 184
    175 (۳) منسوخ الحكم دون التلاوت آیات (حکم منسوخ، تلاوت باقی) 185
    176 حکم اول اور حکم ثانی میں مفسرین کی تحقیق و تتبیق 190
    177 حکم ثانی۔ آیت ۱۵۰۔ سورہ بقرہ۔ پارہ دوم۔ 190
    178 حکم ثانی۔ سورہ بقرہ آیت ۱۸۷۔ پارہ دوم 191
    179 حکم ثانی۔ سورت بقرہ آیت ۱۸۵۔ پارہ دوم 193
    180 حکم ثانی۔ سورت النساء آیت ۱۲ پارہ ۴ 195
    181 حکم ثالث۔ سورہ بقرہ آیت ۲۳۴۔ پارہ دوم 196
    182 حکم ثانی۔ سورت بقرہ آیت ۲۸۶۔ پارہ سوم 200
    183 حکم اوّل۔ سورت نساء آیت ۸ 201
    184 حکم ثانی۔ سورت النساء آیت ۱۱ تا ۱۴ میراث پارہ ۴ 202
    185 سورت انفال کے احکام میں رعایت 209
    186 حکم ثانی۔ سورت نور آیت ۳۲ 211
    187 قطع تعلق مناکحت میں المومنین و المشرکین 212
    188 حکم اوّل۔ سورۂ ممتحنہ آیت ۱۰ و ۱۱ پارہ ۲۸ 212
    189 آیت ۱۰۷۔ اللہ ہی کی حکومت ہے 214
    190 آیت ۱۰۸۔ نبیﷺ سے سوالات 215
    191 آیت ۱۰۹۔ کفّار کا حسد 215
    192 آیت ۱۱۰۔ تمہارے اعمال آخرت کا توشہ 216
    193 آیت ۱۱۱۔ جنت کا مستحق کون ہے 217
    194 آیت ۱۱۲۔ (ب) جنت کے مستحق کی نشانی 217
    195 آیت ۱۱۳۔ مذہبی گروہ بندیاں 218
    196 آیت ۱۱۴۔ مساجد کو ویران کرنے والے 219
    197 مسئلہ (۵) مساجد کو گرانا اور ان میں نماز پڑھنے سے روکنا حرام ہے 220
    198 آیت ۱۱۵۔ ہر طرف اللہ ہی کا جلوہ ہے 222
    199 مسئلہ۔ نسخ قبلہ اور اس کی تحویل 223
    200 آیت ۱۱۶۔ اللہ اولاد سے پاک ہے 226
    201 آیت ۱۱۷۔ كُنْ فَیَكُوْن اللہ کی قدرت ہے 226
    202 آیت ۱۱۸۔ قدرت کے واضح دلائل 227
    203 آیت ۱۱۹۔ نبی کریمﷺ کی ذمہ داری 228
    204 آیت ۱۲۰۔ یہود و نصاریٰ کی خواہش 228
    205 آیت ۱۲۱۔ کتب سابقہ میں تائید 229
    206 آیت ۱۲۲۔ اللہ کے انعام کو یاد کرو 229
    207 آیت ۱۲۳۔ یوم آخرت میں گرفت 230
    208 آیت ۱۲۴۔ حضرت ابراہیمؑ کی قیادت و امامت 230
    209 مسئلہ ۷۔ (۱) عقیدہ عصمت انبیاء (۲) کافر امامت کا اہل نہیں 231
    210 معنیٰ ختمِ نبوت پر آں حضرتﷺ کی شہادت 234
    211 خانہ کعبہ کی اہمیت۔ احکامِ حج 235
    212 آیت ۱۲۵۔ خانہ کعبہ کی اہمیت، احکامِ حج 235
    213 مسئلہ ۸۔ آیت ۱۲۵۔ مکہ قابل تعظیم اور امن والی جگہ ہے 236
    214 آیت ۱۲۶۔ مکہ امن والا شہر 237
    215 آیت ۱۲۷۔ تعمیر کعبہ۔ حضرت ابراہیمؑ کی دعا 238
    216 آیت ۱۲۸۔ امت مسلمہ کے لیے دعا 238
    217 آیت ۱۲۹۔ آں حضرتﷺ کی چار خصوصیات 239
    218 آیت ۱۳۰۔ دینِ ابراہیمیؑ 239
    219 آیت ۱۳۱۔ حضرت ابراہیمؑ کی فرماں برداری 240
    220 آیت ۱۳۲۔ حضرت ابراہیمؑ کی وصیت 240
    221 آیت ۱۳۳۔ حضرت یعقوبؑ کی وصیت 241
    222 آیت ۱۳۴۔ اپنے ہی عمل کام آئیں گے 241
    223 آیت ۱۳۵۔ ملتِ ابراہیمیؑ 242
    224 آیت ۱۳۶۔ تمام نبیوں پر ایمان لانا 242
    225 آیت ۱۳۷۔ صحابہؓ کی طرح ایمان لاؤ 243
    226 صحابہ کرامؓ کے معیار حق ہونے پر استدلال 245
    227 آیت ۱۳۸۔ اللہ کا رنگ 246
    228 آیت ۱۳۹۔ اللہ کے خاص بندے 246
    229 آیت ۱۴۰۔ کتمانِ حق 247
    230 آیت ۱۴۱۔ اپنے اعمال ہی کام آئیں گے 247
    231 منصب عبد …… مرتبہ مقام عبدیت 249
    232 عالم کبیر اور عالم صغیر سے مراد 249
    233 ہمزاد شیطان 253
    234 شیطان سرا سر فتنہ ہے 254

    کتاب ’احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ‘ کو پڑھنے کے لیے اس بٹن کو کلک کریں:

    ’احکامِ قرآن – ترجمہ و تفسیر پارہ اوّل سورہ البقرہ‘ کے صفحہ کو 1193 وزیٹرز نے 1361 مرتبہ دیکھا۔